4 اگست، 2026، 5:04 PM

مہر نیوز کی خصوصی رپورٹ:

ایران کے معاملے پر ٹرمپ کی بار بار پسپائی، امریکی حکمت عملی اور سیاسی مجبوریاں

ایران کے معاملے پر ٹرمپ کی بار بار پسپائی، امریکی حکمت عملی اور سیاسی مجبوریاں

ایران کے خلاف سخت بیانات کے باوجود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مسلسل عملی کارروائی سے گریز کر رہے ہیں، کیونکہ جنگ کی عسکری، سیاسی اور معاشی قیمتیں واشنگٹن کے ابتدائی اندازوں سے کہیں زیادہ بھاری ثابت ہوئی ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک، امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک مرتبہ پھر ایران کے خلاف سخت فوجی کارروائی کی دھمکی سے پیچھے ہٹ گئے ہیں۔ یہ محض ایک وقتی تبدیلی نہیں بلکہ ایران کے حوالے سے ٹرمپ انتظامیہ کی مستقل پالیسی بنتی جا رہی ہے، جس میں سخت بیانات کے ذریعے دباؤ بڑھانے کی کوشش کی جاتی ہے، مگر عملی کارروائی کے مرحلے پر واشنگٹن پسپائی اختیار کر لیتا ہے۔

حالیہ مہینوں میں ٹرمپ متعدد بار ایران کے خلاف "فیصلہ کن"، "غیر معمولی" اور "بڑے حملے" کی دھمکیاں دے چکے ہیں، لیکن جب بھی ممکنہ جنگ کے حقیقی اخراجات اور نتائج سامنے آئے، امریکی مؤقف میں نرمی آگئی۔ اس مسلسل طرزعمل نے یہ سوال پیدا کر دیا ہے کہ سخت فیصلوں کے دعوے کرنے والے ٹرمپ آخر ایران کے معاملے میں بار بار پیچھے کیوں ہٹ رہے ہیں۔

امریکی اور صہیونی غلط اندازے

واشنگٹن اور اسرائیل کا ابتدائی خیال تھا کہ محدود فوجی دباؤ کے ذریعے ایران کو دفاعی پوزیشن پر لایا جاسکتا ہے، اس کی ڈیٹرنس کمزور کی جا سکتی ہے اور اسے امریکی شرائط تسلیم کرنے پر مجبور کیا جاسکتا ہے۔ تاہم زمینی حقائق ان اندازوں کے برعکس ثابت ہوئے۔

جس جنگ کو امریکہ ایک محدود اور مختصر فوجی کارروائی سمجھ رہا تھا، وہ بتدریج وائٹ ہاؤس کے لیے ایک پیچیدہ بحران میں تبدیل ہوگئی۔ نہ صرف ابتدائی مقاصد حاصل نہ ہوسکے بلکہ سیاسی، عسکری اور اقتصادی اخراجات بھی مسلسل بڑھتے گئے، جس کے باعث واشنگٹن کے لیے مزید عسکری کارروائی کا فیصلہ پہلے سے زیادہ مشکل ہو گیا۔

ایران میں داخلی اتحاد امریکی حکمت عملی کے برعکس رہا

امریکی منصوبہ سازوں کی ایک بڑی غلطی ایران کے اندرونی حالات کا غلط اندازہ تھا۔ ان کا خیال تھا کہ بیرونی حملہ ایرانی معاشرے میں اختلافات کو بڑھا دے گا اور حکومت اندرونی دباؤ کا شکار ہوجائے گی تاہم عملی صورت حال اس کے برعکس سامنے آئی۔ بیرونی خطرے نے ایرانی معاشرے میں قومی یکجہتی کو فروغ دیا اور ملکی دفاع کا معاملہ مختلف طبقات کے درمیان اتحاد کا باعث بن گیا۔ اس کے نتیجے میں وہ مقصد بھی حاصل نہ ہوسکا جس کے تحت ایران کو اندرونی دباؤ کے ذریعے مذاکرات میں کمزور پوزیشن پر لانے کی کوشش کی جا رہی تھی۔

علاقائی ڈیٹرنس کا توازن ایران کے حق میں کیسے بدلا؟

جنگ کے بعد ایران کی بعض اسٹریٹجک صلاحیتیں پہلے سے زیادہ نمایاں ہوکر سامنے آئیں۔ ان میں سب سے اہم آبنائے ہرمز کی جغرافیائی اہمیت اور ایران کی میزائل و ڈرون صلاحیتیں شامل ہیں، جنہوں نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے اندازوں کو تبدیل کر دیا۔ آبنائے ہرمز صرف ایک بحری گزرگاہ نہیں بلکہ عالمی توانائی کی ترسیل کا اہم ترین راستہ ہے۔ اس علاقے میں کسی بھی قسم کی بدامنی عالمی توانائی کی قیمتوں، شپنگ کے اخراجات اور بڑی معیشتوں کے اقتصادی مفادات پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔ اسی لیے تہران اس آبی گزرگاہ کو اپنی ڈیٹرنس کی حکمت عملی کا بنیادی حصہ سمجھتا ہے۔

میزائل طاقت اور جنگ کی ممکنہ قیمت

ایران کی میزائل ٹیکنالوجی میں بہتری، ڈرون صلاحیتوں میں اضافہ اور حالیہ جنگی تجربات نے اس کی عسکری طاقت کی نئی تصویر پیش کی ہے۔ امریکہ کے لیے اصل تشویش صرف ایران کے ممکنہ جواب تک محدود نہیں بلکہ اس وسیع نقصان سے بھی ہے جو کسی نئی جنگ کی صورت میں امریکی فوجی اڈوں، توانائی کے مراکز، اہم تنصیبات اور خطے میں موجود اتحادیوں کو پہنچ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی فیصلہ ساز ہر ممکنہ کارروائی سے قبل ایران کے ردعمل کو اپنی حکمتِ عملی کا اہم حصہ بناتے ہیں۔

امریکہ کی عسکری اور اقتصادی محدودیتیں

امریکہ گزشتہ چند برسوں سے مختلف عالمی محاذوں پر مصروف ہے، جس کے باعث اس کے اسلحہ کے ذخائر، عسکری سپلائی چین اور دفاعی پیداواری صلاحیت پر دباؤ بڑھ چکا ہے۔

ایران کے خلاف ممکنہ جنگ کو مختصر کارروائی کے بجائے ایک طویل اور تھکا دینے والی جنگ میں تبدیل ہونے کا خطرہ لاحق ہے، جس کے لیے بھاری مالی وسائل، مسلسل فوجی تیاری اور طویل المدتی سیاسی عزم درکار ہوگا۔ یہی وہ منظرنامہ ہے جس پر واشنگٹن کے پالیسی ساز شدید تشویش رکھتے ہیں۔

ٹرمپ کی داخلی سیاسی مشکلات بھی بڑی رکاوٹ

ٹرمپ نے اقتدار میں واپسی کے دوران مہنگی جنگوں کے خاتمے اور بیرونی فوجی مداخلت کم کرنے کے وعدے کیے تھے۔ اب اگر وہ ایران کے خلاف ایک وسیع جنگ کا آغاز کرتے ہیں تو انہیں اندرون ملک شدید سیاسی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

جنگی اخراجات اور توانائی کی قیمتوں میں ممکنہ اضافہ، امریکی معیشت پر منفی اثرات اور عوام کے ایک حصے کی نئی جنگ کی مخالفت نے وائٹ ہاؤس کے لیے فیصلہ سازی مزید پیچیدہ بنا دی ہے۔ اسی لیے ٹرمپ کے لیے جنگ شروع کرنا بھی آسان نہیں اور واضح کامیابی کے بغیر اس سے نکلنا بھی سیاسی نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔

دھمکی اور پسپائی کا مسلسل چکر

حالیہ مہینوں میں ٹرمپ کی حکمت عملی ایک ایسے چکر میں تبدیل ہوچکی ہے جس میں سخت بیانات کے ذریعے نفسیاتی اور سیاسی دباؤ پیدا کیا جاتا ہے، لیکن عملی کارروائی سے گریز کیا جاتا ہے۔ جب کوئی ملک بار بار دھمکی دے مگر اس پر عمل نہ کرے تو اس کی ڈیٹرنس کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔ طاقت صرف عسکری صلاحیت سے نہیں بلکہ اس یقین سے بھی وابستہ ہوتی ہے کہ ضرورت پڑنے پر اس طاقت کو استعمال کیا جائے گا۔ مسلسل پسپائی سے نہ صرف مخالفین بلکہ اتحادی بھی امریکی دھمکیوں کی سنجیدگی پر سوال اٹھانے لگتے ہیں۔

امریکہ ایک مشکل تزویراتی دوراہے پر

ٹرمپ اس وقت ایک ایسے پیچیدہ مرحلے پر کھڑے ہیں جہاں وہ نہ تو جنگ کو آسانی سے وسعت دے سکتے ہیں اور نہ ہی کسی واضح کامیابی کے بغیر اس سے دستبردار ہوسکتے ہیں۔ ایران کا معاملہ اب صرف امریکی خارجہ پالیسی کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ داخلی سیاست، علاقائی توازن اور عالمی حکمت عملی کا اہم چیلنج بن چکا ہے۔ گزشتہ مہینوں کے تجربات نے ظاہر کیا ہے کہ ایران نے نہ صرف اپنی ڈیٹرنس برقرار رکھی بلکہ امریکہ کے لیے کسی بھی نئی فوجی کارروائی کی قیمت بھی نمایاں طور پر بڑھا دی ہے۔ اگر واشنگٹن نے اپنی موجودہ حکمت عملی پر نظرثانی نہ کی تو یہ بحران ٹرمپ انتظامیہ کے لیے مزید پیچیدہ صورت اختیار کرسکتا ہے۔

News ID 1940540

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha